Apne Ihsaas Se Cho Kar Muje Sandal Kar Do
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو
جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو
تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو
اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو
مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں
اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
وصی شاہ
Apne Ihsaas Se Cho Kar Muje Sandal Kar Do
Main Ke Sadiyon Se Adhora Hon Mukamal Kar Do
Na Tumhain Hosh Rahe Aur Na Muje Hosh Rahe
Is Qadar Toot Ke Chaho Muje Pagal Kar Do
Tum Hatheli Ko Mere Pyar Ki Mehndi Se Rango
Apne Hath Me Mere Naam Ka Kajal Kar Do
Dhop Hi Dhop Hoon Main Toot Ke Barso Muj Par
Me Tu Sehra Hon Muje Pyar Ka Badal Kar Do
Us Ke Saye Main Mere Khawab Mehak Uthain Gay
Mere Chehray Pe Umeedon Bhra Aanchal Kar Do
Apnay Honton Se Koi Mhr Lgao Muj Par
Ik Nazar Pyar Se Dekho Muje Ghayal Kar Do
Wasi Shah Poetry